ریاض ندیمؔ نیازی … حاضر اللہ سائیں

حاضر اللہ سائیں

سیر و سیاحت کا عمل صدیوں سے جاری و ساری ہے۔ جو لوگ کسی دوسرے ملک، جگہ، شہر یا وادیِ پُرفضا کی سیر کرنے جاتے تھے وہ آ کر اپنے عزیز و اقارب، دوست احباب اور رشتے داروں کو اُس ملک، جگہ، شہر یا وادیِ پُرفضا کی عجیب و غریب، انوکھی اور ناقابلِ فراموش باتیں اور واقعات بتاتے تھے اور لوگ اُن کی باتوں اور واقعات کوسن کر حیرت زدہ رہ جاتے تھے اور کچھ لوگ تو اِن باتوں اور واقعات کو ناقابلِ یقین جانتے تھے۔ اِس طرح زبانی کلام چلتا تھا، مگر یہ یادیں ذراسی پرانی ہو جانے پر اپنا اثر کھو دیتی تھیں اور ذہن سے محو ہونا شروع ہو جاتی تھیں۔ اِن باتوں اور واقعات کو یاد رکھنے اور ہمیشہ تر و تازگی کے ساتھ محسوس کرنے کے لیے اُن لوگوں نے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے یا یوں کہیے کہ جو اہلِ قلم تھے اور شعر و ادب سے جن کا تعلق تھا ،اُنھوں نے مختلف مقامات کی سیر و سیاحت کرنے کے بعد ناقابلِ فراموش واقعات کو لکھنا شروع کردیا جو بعد میں سفر نامہ کہلایا اوریوں رفتہ رفتہ ہزاروں سفرنامے منظرِ عام پر آنے لگے۔
اِن سفرناموں میں حج و عمرہ کے سفرنامے بھی شامل تھے جو عام سفرناموں سے ہٹ کر لکھے جاتے تھے کیوں کہ اِن حج و عمرہ کے سفرناموں میں حضورِ اکرم ،نورِ مجسم (صلی اللہ علیہ وآلہٖ واصحابہٖ وسلم)سے والہانہ عقیدت کا اظہار اورخانہ کعبہ کے تقدس اور پاکیزگی کے شدید جذبات بھی شامل ہوتے تھے اور اِن سب کی جان روحانیت ہوتی تھی۔ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی زیارت، مسجدِ نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ واصحابہٖ وسلم)کادیدار اورروضۂ اطہرکی حاضری کا شوق عالمِ اسلام کے تمام مومنین اور مومنات اور مسلمین اور مسلمات کو ہوتا ہے، لہٰذا حاضری کی تڑپ رکھنے والوں کے لیے یہ سفرنامے جہاں والہانہ عقیدت سے ہوتے تھے وہاں اِن میں بھرپور روحانیت بھی بھرپور پائی جاتی تھی اور یہ معلومات کا خزانہ بھی ہوتے تھے۔ لوگ جب تک حج یا عمرے کے لیے نہیں جا سکتے تھے وہ یہ سفرنامے پڑھ کر اپنا ایمان تازہ کرتے تھے اور اِن مقدس مقامات کی روداد جانتے اور اِ ن کی جزئیات نگاری میں کھو کر رہ جاتے تھے۔آج بھی جو لوگ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی ہزاروں کوششوں اور لاکھوں جتن کے باوجود زیارت نہیں کرسکے وہ اب بھی حج و عمرے کے سفرناموں کو باربار پڑھ کر اپنی آنکھوں کو نم ناک اور دل کو شاد کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن تو ہم بھی اِن مقدس مقامات اور اِن معطر ماحول میں زندگی کے چند روز گزاریں گے اور پاکیزہ آب و ہوامیں سانس لیں گے۔
فی زمانا مستنصر حُسین تارڑ، حکیم محمدسعید( شہید) اور قمر علی عباسی صاحبان کے سفرنامے سب سے زیادہ زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منظرِ عام پر آئے ہیں۔ اِن میں اور دیگر حج و عمرہ پر جانے والوں کے سفرنامے جو حج و عمرہ کی روداد پر مشتمل ہیں بہت زیادہ ہیں اور اِن حج و عمرہ کے سفرناموں میں جناب ممتاز مفتی کے سفرنامے ’’لبیک‘‘ نے غیر معمولی شہرت حاصل کی۔
اب حال ہی میں جناب ارشد ملک کا سفرنامۂ حج ’’حاضر اللہ سائیں‘‘ کے نام سے نہایت دیدہ زیب شائع ہوا ہے، جس میں والہانہ عقیدت بھی شامل ہے اور روحانیت بھی، اُنھوں نے نہ صرف ایک سچے عاشقِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ واصحابہٖ وسلم) اور پکے مسلمان عبد کی عبدیت کی حیثیت سے مکہ معظمہ اور مدینہ منور کا آنکھوں دیکھا حال لکھا ہے بلکہ جو اُن پر کیف و سرور کے لمحات گزرے ہیں اُن کا بیان بھی نہایت جوشیلے انداز میں کیا ہے۔ اُن کا سفرنامۂ حج’’ حاضر اللہ سائیں‘‘ اِس لیے بھی انفرادیت کا حامل ہے کہ اِس میں اراکینِ حج اور روضۂ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ واصحابہٖ وسلم) پر حاضری کے لمحات کی جزئیات تک بیان کر دی گئی ہے۔ جہاں ارشد ملک صاحب نے اپنے تجربات کا ذکر کیا ہے وہاں عمیق مشاہدات کو بھی ایسے لکھا ہے کہ پڑھنے والے کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ مکۂ معظمہ اور مدینۂ منورہ کے حَسین مناظر کو اپنی آنکھوں سے خوددیکھ رہا ہے اور وہ بہ نفسِ نفیس خودوہاں موجود ہے اور وہاں کی نورانی آب و ہوا کو اپنے جسم و جان میں اُترتا ہوامحسوس کر رہا ہے۔ ارشد ملک صاحب نے ایسے نازک موقعے پر اپنے نازک احساسات کو بھی قلم بند کیا ہے جو پڑھنے کے قابل ہیں۔
زبان و بیان کی خوبیاں فکر و احساس کی ندرتوں پر مستزاد ہیں۔ زبان کی صفائی اور اسلوب کی پختگی و پُرتاثیری وہ اوصاف ہیں جن کے سبب اِس سفرنامے کو عہدِ حاضر کے ادبِ عالیہ میں جگہ مل سکتی ہے۔ ایسی رواں دواں اوردل کش نثرلکھنا آج کے دور میں آسان نہیں۔ زبان سے بے اعتنائی کے زمانے میں ایسے شہہ کار کا سامنے آنا نیک فال ہے۔ لفظ و خیال کی ہم آہنگی نے اِس کتاب کو اہلِ دل کے لیے ارمغانِ خاص بنا دیا ہے۔
لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ارشد ملک صاحب کا سفرنامۂ حج و عمرہ ’’حاضر اللہ سائیں‘‘ اُن سیکڑوں حج و عمرہ کے سفرناموں سے زیادہ پُر تاثیر ہے جو اُن لوگوں کے لکھے ہوئے ہیں جن کو لکھنا نہیں آتا،یعنی وہ لوگ قلم کار نہیں ہوتے نہ اُن کا اہلِ ادب میں شمارہوتاہے اور نہ وہ شاعر و ادیب ہوتے ہیں۔ جذبات کی نورانیت، والہانہ عقیدت اور پاکیزہ روحانیت لیے ہوئے ہے اور اِن دونوں مقدس مقامات کی معلومات کا خزانہ بن گیا ہے۔ سفرنامے کے مطالعے کے دوران جو سب سے بڑی خوبی سامنے آئی ہے ،وہ یہ ہے کہ ہر قاری محسوس کرتا ہے کہ وہ سفرنامہ نگار کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے اور یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور رحمت کی بارش میں خود بھی بھیگ رہا ہے۔ ایسا پُرتاثیر اور اہم سفرنامہ ایک طویل عرصے کے بعد سامنے آیا ہے۔
میں سفرنامہ نگار جناب ارشد ملک کواِس کارِ خیرپر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

Related posts

Leave a Comment